آزادی کا سفر



     آزادی کا سفر 

مملکت خداداد پاکستان 14 اگست 1947 کو نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست کے طور پر ابھرا جس دن پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا اس دن 27 رمضان کا مبارک دن تھا اپنا علیحدہ ملک حاصل کرنے کے لیے برصغیر پاک ہند کے مسلمانوں کو طویل جدوجہد کرنا پڑی یہاں کے لوگوں نے اپنے لہو سے ازادی کے چراغ روشن کیے قیام پاکستان کے وقت جس طرح ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ت اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔






1857 سے پہلے بر صغیر پاکستان پر مغلوں کی حکومت تھی مسلمان حکمرانوں کے اپس کی نہ اتفاقی بزدلی اور غداری کی وجہ سے ہیں انگریز اہستہ اہستہ بر صغیر پر قابض ہوتے چلے گئے 1857 کی جنگ ازادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا اخری بادشاہ شاہ ظفر کو رنگون میں قید کر لیا گیا اور اسیری کی حالت میں شاہ ظفر کا انتقال ہوا

 انگریزوں نے بہادر شاہ سفر کے کے بیٹوں کے سر قلم کر کے بہادر شاہ ظفر کے سامنے رکھ دیے اس سے زیادہ ظالمانہ اقدام اور کیا ہوگا انگریزوں کے پاؤں جب ہندوستان میں اچھی طرح سے جم گئے توا نہوں نے خاص طور پر مسلمانوں سے چن چن کا بدلہ لینا شروع کر دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے مسلمانوں سے یہ حکومت چینی ہے اس لیے مسلمانو دوبارہ ہم سے حکومت نعت چھین لیں انہوں نے چن چن کر مسلمانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جب اس کی اتش انتقام شہیدوں کے خون سے بھی نام بجھ سکی تو اس نےلاکھوں معصوموں کو بھی تختہ دار پر کھینچا اور تنگ و تاریخ قید خانوں میں جکڑ کر رکھ دیا۔



 ان میں سے بعض کو اخری سجدے کی مہلت بھی نہ مل سکی انگریزوں نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اس لیے برعکس ہندوں پر ان کی بہت سی عنایات پڑھتی گئی کیونکہ مسلم حکومت کے خلاف سازشوں میں ہندو برابر کے شریک تھے مسلم انگریزوں کی امد سے پہلے حاکم تھے اور اب وہ محکوم ہو گئے تھے جبکہ ہندوؤں کے لیے نئی حکومت آگی۔


Also check HaveSomeNews

انگریزوں نے مسلمانوں کی عزت وقار کو بری طرح مجروح کیا انہوں نے مسلمانوں کو ہر طرح سے ذلیل و رسوا کیا مسلمانوں کو اعلی سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا گیا ان کی جاگیریں اور جائیدادیں جائیدادیں ضبط کر لی گئی تجارت پر انگریزوں اور ہندوؤں نے قبضہ کر لیا۔

سر ائے امدن چھن جانے کے بعد مسلمان اقتصادی طور پر کمزور ہو گئے ایسے میں سر سید احمد خان روشنی کی کرن ابھر کر ائے انہوں نے مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ اگر ہم جدید تعلیم حاصل کریں گے تو ہم تعلیمی لحاظ سے انگریزوں اور ہندوں کا مقابلہ کر سکیں گے اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلے 1864 میں غازی پور میں ایک مدرسہ قائم کیا جس میں اردو عربی اور فارسی کے ساتھ انگریزی زبان بھی پڑھائی جاتی تھی 1875 میں علی گڑھ میں ایم اے او ہائی سکول قائم کیا 1877 میں اسے کالج کا درجہ دے دیا گیا اس کے بعد 1921 میں اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا بعد میں علی گڑھ سے جو تحریک چلی اس نے پاکستان حاصل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔اس میں سر سید احمد خان اور ان کے افقاء کا اہم کردار ہے



قائد اعظم کو بھی علی گڑھ کے طلبہ سے خاص لگاؤ تھا وہ ان سے خطاب کرنے کے لیے اکثر وہاں جایا کرتے تھے۔

بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ملک کے دول و عرضی میں بہت سی تعلیمی ادارے کھولے جن میں سے مشہور ہیں علماء لکھنؤ دارالعلوم دیوبند انجمن حمایت الاسلام لاہور سندھ مدر مدرسۃ الاسلامیہ اسلامیہ کالج پشاور
مسلمان چوران نے بھی بر صغیر کے مسلمانوں کو اپنے اشعار کے ذریعے خواب غفلت سے جگایا اس وجہ سے انہوں نے ہندوؤں کے ہٹکندہ کو برداشت کیا ان شعراقی ایک طویل فہرست ہے جن میں حالی اکبر علی

ابادی علامہ اقبال ظفر علی خان اور حسرت روحانی شامل ہیں۔

بیسویں صدی سے پہلے چکسائی حکے میں اس برصغیر کے افق پر دوائے ستارے ابھرے جن میں سیاسی بصیرت کی روشنی کے ساتھ ساتھ شولہ نوائی کی گرمی بھی تھی ان میں ایک کا نام مولانا حسرت موہانی اور دوسرے مولانا محمد علی جوہر تھے ان بزرگوں نے ازادی کی جدوجہد میں اپنے زیادہ تر وقت جیل میں گزارا مولانا محمد علی جوہر ایک جگہ بدیشی استبدات کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں
دور حیات ائے گا قاتل سزا کے بعد
لیے ابتدا ہمارے انتہا کے بعد

دو قومی نظریہ

برصغیر کے مسلمان ہندوؤں کے ساتھ مل کر تحریک چلا رہے تھے تاکہ انگریزوں کو بھی غلامی سے نجات مل سکے مگر جلد ہی مسلمان نو نے اس بات کو محسوس کر لیا کہ دونوں قومیں ایک ساتھ ہندوستان میں نہیں رہ سکتی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک ہونا چاہیے دو قومی نظریے کے مطابق قائدا اعظم نے فرمایا اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں بلکہ درحقیقت وہ دو مختلف معاشرتی نظام ہیں یہ روک اپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے نہ ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں
میں صاف لفظوں میں کہتا ہوں کہ یہ دو مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اکثر ایک قوم کا رہنما دوسری قوم کے بزرگوں کا دشمن ہوتا ہے ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہے ایسی دو قوموں کو ایک نظام ہے باندھنے کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلے گا لیٹس قوم کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک قوم ہیں لہذا ان کے لیے ایک الگ وطن چاہیے جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی  معاشرتی اور سیاسی زندگی گزار سکیں۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبے میں جو 1930 میں اللہ اباد میں ہوا تھا مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان علاقوں میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک ہونا چاہیے علامہ اقبال کے اس خطبے نے مسلمانوں کی تحریک ازادی کو نیا موڑ دیا چوہدری رحمت علی نے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کا نام 1933 میں پاکستان تجویز کیا۔
علامہ اقبال کا خواب قائد اعظم اور مسلمانوں کی انتھک کوششیں رنگ لائیں اخر کار انگریزوں نے تین جون 1947 کو ایک منصوبہ پیش کیا اس کی رو سے 15 اگست 1947 کو ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم کر کے مکمل ازادی دینے کا پروگرام شامل تھا
ریڈ کلف ایوارڈ 1947
سرحدیں کھینچنے کے لیے کمیشن بنایا گیا جس کو ریڈ کلف کا نام دیا گیا اس نے جانبداری سے کام لیتے ہوئے مسلم اکثریت والے علاقہ مثلا کلکتہ مشری پنجاب کے علاقے امبالہ اور گاردپور۔بنگال کے مسلم اکثریت والے کچھ علاقے ہندوؤں کے حوالے کر دیے گئے

مسلمانوں کی قتل و غارت

ملک کی تقسیم کا اعلان ہوتے ہی پورا ملک فسادات کی لپیٹ میں اگیا کلکتہ نواکلی بہار اور دہلی میں خوفناک فسادات ہونے لگے مشرقی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں نے ظلم اور بربریتوں جیتو کی انتہا کر دی لاکھوں افراد قتل ہوئے خواتین اور بچوں کو بے دردی سے مارا گیا ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور سبق کروڑ مسلمانوں کو زبردستی پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔کچھ مسلمانوں کو قید کر لیا گیا جن کے پانی میں زہر اور کوٹ کر کانچ شامل کیا جاتا اور ان کو پلایا جاتا تھا کہ یہ پانی پی کر مسلمان شہید ہو جائیں ہندوستان سے پاکستان جو ٹرینوں ٹرینیں ائیں ان میں سے کچھ ٹرینیں ایسی ائیں جن کے تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا۔چشم فلک نے ایسے ایسے ہولناک مناظر دیکھے جن کا ذکر کر کے 

انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

اج خدا تعالی کے فضل و کرم سے ہم ایک ازاد ملک میں سانس لے


رہے ہیں ہم ان لاکھوں گمنام شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے جدہ جہنم نے جانوں کے نذرانے پیش کیے اس وطن کا نام روشن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وطن سے ہمارا رشتہ اتنا گہرا ہو کہ دنیا کی کوئی ریاست ہمیں وطن سے جدا نہ کر سکے
سبز پرچم تیرا چاند تارے تیرے
تیری بزم نگاری کے عنوان ہیں
تیری گلیاں تیرے شہر تیرے چمن
تیرے ہونٹوں کی جنبش پر قربان ہے
جن میں تیری نظر کا اشارہ ملا
تحفہ نقد جاں پیش کر دیں گے ہم
اے نگار وطن تو سلامت رہے

Post a Comment

1 Comments

  1. Masterpiece, but I request u to write one on Maus panzer 8

    ReplyDelete