مولانا جلال الدین رومی بلند پائے کے عالم تھےآپ کو تصوف اورفقہ پر عبور حاصل تھا اپ کا نام محمد جلال الدین لقب اور شہرت مولانا روم کے نام سے تھی اپ کے والد کا نام مولانا بہاوالدین تھا وہ بھی ایک عالم فاضل شخص تھے اپ 30 ستمبر 1207 ہجری میں افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے اپ بچپن ہی سے خدا داد ذہانت کے مالک تھے اپ کچھ عرصہ اپنے والد کے مدرسے میں بھی پڑھاتے رہے وہاں پر اپ اکیلے استاد تھے اور جو کورس دوسرے مدرسوں میں ایک سال میں ختم کیا جاتا تھا اپ ایک مہینے میں ختم کر دیتے تھے بلخ کے بعد اپ حلب تشریف لے گئے اور اس کے بعد ترکی کے شہر قونیہ چلے گئے اور وہیں اپ نے17 دسمبر 1273 ہجری میں وفات پائی
مولانا جلال الدین رومی کے اقوال زرین
ہم جتنا پرسکون ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم سن سکتے ہیں
تمہاری ساری پریشانیاں خواہش کی وجہ سے ہے اگر تم خواہش چھوڑ دو تو تم پر سکون ہو جاؤ گے
ایک کم ظرف انسان دوسروں سے لیا ہوا ہیرا بھول جاتا ہے مگر اپنا دیا ہوا پتھر یاد رکھتا ہے
اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کی طرف مت دیکھو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہی تمہاری ضرورت پوری کرے گا
ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے اپ ہیں مگر اپ کی اولاد اپ کو پڑھ کے سناتی ہے
اپنے کام سے کام رکھو دوسروں کے معاملات میں دخل دینا ایسا ہے جیسے کوئی غیر کی زمین میں گھر بنا ئے
جس میں ادب نہیں اس میں گویا برائیاں ہی برائیاں ہیں
عدل کیاھے درختوں کو پانی دینا ظلم کیاھے کانٹوں کی آبیاری کرنا
تم بہادروں کے ہتھیار اپنے جسم پر سجا لو اگر تم ان کے اہل نہیں تو یہ تمہارے لئے مصیبت جان ہیں قلب کثرت گناہ سے مسخ ہو جاتا ہے تو پھر نیکی بدی کی تمیز نہیں رہتی
جب تو کسی صاحب دل کے پاس پہنچے گا تو اس کے فیض سے موتی کی طرح قابل قدر ہو جائے گا
کوئی ناقص کسی کامل کا حال معلوم نہیں کر سکتا
خاموش رہو صرف خدا ہی تمہارے دل کا بوجھل ہلکا کر سکتا ہے
اپنے دل میں مٹھاس تلاش کرو پھر تمہیں ہر دل میں مٹھاس ملے گی
موت کا ذائقہ سب نےچکھنا ھے مگر زندگی کا ذائقہ کسی کسی نے چکھا ھے
برداشت کے کانوں سے سنو رحم کی انکھوں سے دیکھو محبت کی زبان سے بات کرو
کسی ولی کی صحبت میں چند لمحے گزارناسو سال کی عبادت سے بہتر ھے
مشکل وقت میں ہمیشہ دعا مانگا کرو کیونکہ جہاں پر انسان کا حوصلہ ختم ہو جاتا ھے وہاں سے اللہ تعالی کی رحمت شروع ہوتی ھے

0 Comments