والدین وہ ہستیان ہیں جن کی محبت کا کوئ نعم البدل نہیں ھے والدین دنیا کی مشکلات وہ مصائب برداشت کر کے اپنے اولاد کو اچھی زندگی دیتے ہیں ہم ساری زندگی ان کی خدمت کر کے بھی ان کی محبتوں کا تھوڑا سا بھی قرض نہیں اتار سکتے اللہ تعالی سب کے سروں پر والدین کا سایہ رکھے والدین کے جانے کے بعد زندگی میں ایسا خلاء پیدا ہو جاتا ہے جس کا کوئی مداوا نہیں والدین جیسی بے لوث محبت کوئی اور نہیں کر سکتا یہ واقعہ باپ کی ایسی ہی بے لوث محبت کی عکاسی کرتا ہے ظہیر الدین بابر جس نے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی بابر ایک نڈر وعدے کا پابند تلوار کا دھنی اور قابل جرنیل تھا بابر کا بڑا بیٹا ہمایوں سخت بیمار ہو گیا بابر نے ہر طرح کا علاج کروایا مگر ہمایوں کی بیماری ختم نہ ہوئی تب طبیوں سے مایوس ہونے کے بعد بابر اہل اللہ کی طرف متوجہ ہوا تاکہ اس کے بیٹے کو کسی طرح بیماری سے مکمل نجات مل جائے انہوں نے کہا کہ اپنی سب سے قیمتی چیز اللہ کی راہ میں بطور نذرانہ دی جائے بابر نے کہا کہ جان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے چنانچہ وہ اٹھا اور اس نے تین دفعہ ہمایوں کی چارپائی کے چکر کاٹے اس کے بعد سچے دل سے دعا مانگی کہ خداوند میں نے ہمایوں کی بلا اپنے اوپر لے لی اسی روز سے ہمایوں اچھا ہونے لگا اور بابر کی صحت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی اور اخر کار ظہیر الدین بابا نے سن 1530 میں وفات پائی اور اس کی میت کو کابل میں لے جا کر دفن کیا گیا یہ تھی ایک باپ کی اپنے بیٹے کے لیے بے لوث محبت جس نے اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اپنی بھی جان کی پرواہ نہ کی
0 Comments