سیدی مولا نہایت عابدو زاہد صاحب کرامات والے بزرگ تھے اپ عجم سے ہندوستان ائے پہلے اجودھن میں حضرت قطب الدین اولیاء کی خدمت میں رہے اس کے بعد مخدوم شیخ فرید گنج شکر رحمت اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اپ شیخ فرید کے مرید تھے بعد میں اپ ان سے رخصت ہو کر ہندوستان کی شہروں کی سیر کرتے ہوئے دہلی آکر ٹھہر گئے شیخ فرید نے رخصت ہوتے وقت اپ کو نصیحت کی تھی کہ لوگوں کے ہجوم اور امراء و ملوک کی صحبت سے بچتے رہنا
دہلی میں آپ نے بہت جلد شہرت حاصل کر لی سلطنت کے بڑے عہدے دا روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے اپ کے پاس اتے تھے اس کے علاوہ بلبن کے عہد حکومت کے اکثر امراء بھی ان کے پاس اتے جاتے رہتے تھے دونوں وقت اپ کے دسترخوان پر بہت سے امراء حاضر رہتے تھے اپ نے دہلی میں بہت بڑی خانقاہ تعمیر کی ان کی خانقاہ میں روزانہ ہزار من میدہ اور 500 من گوشت اور 300 من شکر خرچ ہوتی تھی اور ہزاروں لوگ اس سے مستفید ہوتے تھے اپ کا دسترخوان امیر اور غریب دونوں کے لیے برابر تھا وہ خود کبھی کسی سے کوئی تحفہ یا معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے اس لیے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ کیمیا دان تھے سیدی مولا متقی نماز اور روزے کے نہایت پابند تھے ان کی خدمت میں بڑے بڑے لوگ حاضر رہتے تھے جیسے قاضی جلال الدین وغیرہ سلطنت کے بڑے عہدے دار بھی روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے اپ کے پاس جاتے تھے
شہادت آپ کے دور میں جلال الدین خلجی حکمران تھے وہ اپ کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف تھا ایک دن جلال الدین خلجی بھیس بدل کر اپ کی خانقاہ میں گیا وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ کس طرح اپ کی عزت و تکریم کر رہے ہیں تو جلال الدین خلجی کو بہت حسد محسوس ہوا اس نے اگلے دن اپ اور اپ کے رفقاء کو دربار میں بلایا اپ کو زنجیر پہنا کر دربار میں لایا گیا جلال الدین نے اپ سے سوال کیا کہ تم میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہو سیدی مولا نے جواب دیا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میں اپ کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کر رہا مگر اس کے باوجود جلال الدین خلجی نے اذیتیں دے کر اپ کو اور اپ کے کچھ رفقا کو شہید کر دیا کہا جاتا ہے جس دن اپ کو شہید کیا گیا اس دن زوردار کالی اندھی ائی اس سال ملک میں بارشیں نہیں ہوئی اور ملک میں قحط پڑ گیا بہت لوگ بھوک سے مرنے لگے اور بہت سے لوگوں نے دریائے جمنا میں کود کر خود کشی کر لی کچھ مورخ اس بات سے اختلاف کرتے ہیں مگر جلال الدین خلجی کی حکومت بھی صرف سات سال رہی اور اس کے اپنا ہی رشتے داروں نے دھوکے سے اس کی حکومت کاخاتمہ کر دیا
0 Comments