سلطان شمس الدین التمش نے 1112ءمیں اقتدار سنبھالااور دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے جس وقت اپ نے اقتدار سنبھالا اپ چاروں طرف اپنے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اقتدار میں انے کے بعد سلطان نے نہ صرف ان بغاوتوں پر قابو پایا بلکہ ملک کا انتظام بھی بہت اچھے طریقے سے سنبھالا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپ نہ صرف ایک اچھے جرنیل تھے بلکہ اعلی منتظم اور مدبر حکمران تھے آپ کی جگہ اگر کوئی اور حکمران ہوتا تو وہ اتنے اچھے طریقے سےان بغاوتوں پر قابو نہ پا سکتا
سلطان التمش سیرت و کردار کے لحاظ سے بہت سی خوبیوں کے مالک تھے اپ متقی پرہیزگار اور عبادت گزار بادشاہ تھےان کی نیک سیرتی اور پرہیزگاری کی بنا پر ان کا شمار اولیاء اللہ میں ہوتا ہے اپ فقیروں درویشوں اور صوفیوں کے قدردان تھے التمش جمعہ کی نماز کے بعد اپنے محل میں علماء اور مشائخ کا ایک اجتماع منعقد کرتا تھا التمش صوفیاء کرام کا بہت احترام کرتا تھا جب اسے دہلی میں کسی صوفی کے انے کا پتہ چلتا تو وہ دہلی سے باہر نکل کر ان کا استقبال کرتا اسی طرح جب ملتان سے خواجہ بختیار کاکی رحمت اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو سلطان نے ان کا شاندار استقبال کیا اور شاہی محل میں قیام کرنے کی دعوت دی مگر بختیار کاکی رحمت اللہ علیہ نے یہ دعوت قبول نہ کی انھوں نے شہر سے باہر ایک خانقاہ میں قیام کیا سلطان التمش وہیں پر اپ سے ملاقات کرتا تھا بادشاہ ہونے کے بعد بھی التمش نے اپنی شان درویشی قائم رکھی اپ شاہی مصروفیات کے باوجود کبھی نماز ترک نہیں کرتے تھے اور ساری عمر نماز باجماعت ادا کی اپ دن کو سلطنت کا کام کرتے تھے اور رات کو عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے بادشاہ ایک نرم دل انسان تھا انہیں اپنی رعایا سے بہت محبت تھی رات کے وقت بھیس بدل کر شہر میں گشت لگاتے تھے تاکہ رعایا کے حالات سے ذاتی طور پر واقف ہو سکے بادشاہ ایک انصاف پسند حکمران تھا بادشاہ نے حکم دے رکھا تھا کہ مظلوم لوگ رنگ دار کپڑے پہنے تاکہ بادشاہ انہیں دیکھتے ہی ان کی شکایات کو دور کریں انہوں نے اپنے محل کے برجوں میں ایک زنجیر لٹکا رکھی تھی جس کے ساتھ ایک گھنٹی بندھی ہوئی تھی رات کو بھی ہر فریادی گھنٹی ہلا کر اپنی فریاد بادشاہ کے کانوں تک پہنچا سکتا تھا بادشاہ کوتعمیرات سے بھی دلچسپی تھی آپ نے1236ء میں وفات پائی التمش کا شمار سلاطین دہلی کے عظیم حکمرانوں میں ہوتا ھے.
0 Comments