عظیم لوگ

 

کچھ  لوگ ایسے بھی ھوتے ہیں جو اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور کبھی بھی کسی بات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے ایسے ہی لوگوں کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہوتی ہیں
عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار بھی ایسے ہی مسلمانوں میں ہوتا ہے اپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں حمص کے گورنر تھے مدینہ سے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا مدینہ سے اپ کے پاس فرمان پہنچا کہ اپ مدینہ تشریف لائیں اور اپنی رپورٹ پیش کریں عمیر بن سعد کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے شام کی فتوحات  میں نمایاں حصہ لیا تھا اپ بہت بہادر سپاہی تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک برس پہلے انہیں حمص کا گورنر مقرر کیا تھا امیر المومنین کا دستور تھا کہ وہ اپنی گورنروں کی کارکردگی اور طرز عمل کا جائزہ لیتے رہتے تھے اپ دیکھنا چاہتے تھے کہ عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہا ان کے اعتماد پر پورے اترے ہیں یا نہیں  
کافی دن کے بعد جب سعد بن عمیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو اپ ننگے پاؤں تھے اور ایک موٹا سا سونٹا ان کے ہاتھ میں تھا چند برتن ایک رسی سے بندھے ہوئے کندھے پر لٹک رہے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ عمیر بن سعد کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اپ نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور پوچھا عمیر رضی اللہ تعالی عنہ اپ پر سلامتی ہو اپ اگئے ہیں اپ کا کیا حال ہے عمیر بن سعد نے  امیرالمومنین سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا اچھا ھے تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کیا میرا خط اپ کو مل گیا تھا کیا اپ خود ہی چلے ائے اپ نے جواب دیا کہ خط ملتے ہی میں  اپنا سارا سامان لے کر چل پڑا تھا حضرت عمر فاروق نے آپ کی طرف  حیرت سے دیکھا کہ عمیر بن سعاد کے پاس کچھ  نہ تھا اور وہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا سارا مال و اسباب لے کر ا گیا ہوں حضرت عمر فاروق نے ان سے پوچھا کہ تمہارا مال و اسباب کہاں ہے آپ کی آواز میں حیرت تھی عمر بن سعد نے جواب دیا یہ میرا سونٹا ھے انہوں نے اپنا سونٹا زمین پر مارتے ہوئے کہا سفر کے دوران جب ضرورت پڑتی ہے تو میں اس سے  اپنےتحفظ کا کام لیتا ھون جب
تھک جاتا  ہوں تو اس کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوں پھر اپ سانس لینے کے لیے رکے اور کہا یہ جو برتن ہیں یہ میرا ناشتہ دان ہے یہ پانی پینے کا کٹورا ہے اور یہ پانی کا برتن اور ان میں سے کوئی بھی چیز فالتو نہیں ہے اور یہ کہہ کر اپ خاموش ہو گئے حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالی عنہ جو خود بھی بہت سادہ زندگی بسر کرتے تھے لیکن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ ان سے بازی لے گئے کیونکہ ایک شخص جو حمص جیسے خوشحال  صوبہ  کا گورنر سال بھر رہے اور ان کی سادگی کا یہ عالم ہو حضرت عمر فاروق کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ عمیر بن سعد  کے مقابلے میں بڑی پر تکلف زندگی بسر کر رہے ہوں ان کا دل بھر ایا اور اپ رو پڑے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا اے اللہ اس سے پہلے کہ میرے اندر تبدیلی پیدا ہو مجھے اپنے ان رفیقوں کے ساتھ ملا دے جو اس حجرے میں  سو رہے ہیں اے اللہ مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرنا پھر اپ عمیر بن سعد رضی اللہ  تعالی  عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا معاف کرنا بھائی میرے جذبات قابو میں نہ رہے تھے اچھا اپ اپنی کارکردگی بتائیں عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا میں نے مسلمانوں سے زکوۃ اور غیر مسلموں سے جزیہ لیا جو ان لوگوں نے بڑی خوشی سے دے دیا میں نے اسے  ضرورت مندوں اور مسافروں میں تقسیم کر دیا امیر المومنین اگر ایک درہم بھی باقی بچتا تو بخدا میں اسے اپ کے پاس لے اتا اپ کی یہ بات سن کر حضرت عمر فاروق نے   اپ سے کہا کہ اپ اب واپس حمص تشریف لے جائیے  عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں کچھ دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں اور امیر المومینین نےاس کی اجازت دے دی جب عمیر بن سعد اپنے گھر چلے گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حبیب نامی ایک شخص کو روپوں کی ایک تھیلی دے کر کہا کہ تم عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کہ یہاں مہمان بن کے جاؤ تین دن وہاں رہو اور دیکھو ان کا گزارا مشکل سے ہو رہا ہے تو یہ تھیلی ان کو دے دوں حبیب جب عمر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہا کے یہاں پہنچے تو تین دن تک ان کے یہاں مہمان بن کر رہے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے رہے کھانا بالکل سادہ تھا جو کی سوکھی روٹیاں اوپر زیتون کا تھوڑا سا تیل حبیب نے روپوں  کی تھیلی حضرت عمیر بن سعد کو دے دی اور کہا امیر المومنین نے مجھے اپ کا حال دیکھنے کے لیے بھیجا تھا عمیر نے وہ تھیلی لے لی اسے کھولا مٹھی بھر سکے نکالے اور اپنے غریب پڑوسی کو بھجوا دیے پھر مٹھی بھر سکے نکالے اور اپنے دوسرے پڑوسی کو بھجوا دیے عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی طرح اپنی غریب محلے دالوں کو رقم بھجواتے رہے یہاں تک کہ تیلی خالی ہو گئی حبیب نے واپس ا کر سارا قصہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو سنایا اپ نے عمیر بن سعد کو بلایا جب وہ اپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے تو اپ نے انہیں کپڑوں کے دو جوڑے اور اونٹ کے برابر گیہوں دیے عمر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے گیہوں لینے سے انکار کر دیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا میرے یہاں سال بھر کے لیے گلہ موجود ھے مجھے گیہوں کی ضرورت نہیں ہے عمیر بن سعد نے جواب دیا چند دن کے بعد حمص کا گورنر جب اپنے صوبے کی طرف روانہ ہوا تو ان کے پاؤں میں جوتے نہ تھے ہاتھ میں ایک موٹا سونٹا اور کندھے پر ایک رسی بندھی ہوئی تھی اور تین برتن اس پر لٹک رہے تھے
یہ تھے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ جو گورنر ہونے کے باوجود متقی پرہیزگار ایماندار انسان  اور اسلامی اصولوں کے مطابق سادہ زندگی بسر کرتے تھے

Post a Comment

0 Comments