حضرت موسی علیہ السلام بکریاں پال کر اپنی روزی کماتے تھے ایک دن ایک بکری ریوڑ سے پیچھے رہ گئی اور رات بھر جنگل میں بھٹکتی رہی حضرت موسی علیہ السلام کو خیال ایا اگر بکری رات کو باہر رہی گی تو اسے بھیڑیا چھیڑ پھاڑ ڈالے گا
حضرت موسی علیہ السلام بکری کی تلاش میں نکلے ساری رات اسے ڈھونڈتے رہے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھکن سے سارا بدن دکھنے لگا صبح ایک جگہ بکری ملی جو تھک کر بیٹھی ہوئی تھی کوئی اور چرواہا ہوتا تو بکری کو مار مار کے آدھ موا کر دیتا اور کہتا کمبخت تم نے بہت مجھے پریشان کیا مگر حضرت موسی علیہ السلام بالکل ناراض نہ ہوئے اور بکری کو پیار کرنے لگے اپنے ہاتھوں سے اس کے منہ سے رال صاف کی اور بال جھاڑے پھر فرمانے لگے اے بکری مجھ سے کیا غلطی ہوئی کہ میرے گلے سے جدا ہو گئ میں نے مان لیا کہ تجھے میری پرواہ نہ تھی مگر تو نے اپنے اپ کو بھی نہ دیکھا بکری کی ٹانگیں سردی سے اکڑی ہوئی تھی وہ چل بھی نہیں سکتی تھی اپ نے بڑے پیار سے اسے گود میں اٹھا لیا جیسے ماں اپنے بچے کو اٹھاتی ہے خدا تعالی کو اپنی بے زبان مخلوق سے حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ ہمدردی بڑی پسند آئی
خدا تعالی نے فرشتوں سے کہا کہ دیکھو موسی علیہ السلام کا حوصلہ
ہمیں بھی چاہئے کہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں تاکہ خدا تعالی ہم سے خوش ھو
0 Comments