سلطان ناصرالدین محمود سلطان شمس الدین التمش کے نیک سیرت بیٹے تھے اپ نے سن 1246 میں حکومت سنبھالی ناصر الدین محمود ایک صوفی منش متقی اور پرہیزگار انسان تھے وہ حد سے زیادہ نرم مجاز منصب اور خدا ترس تھے وہ نہایت خوش اخلاق تھے انہوں نے اپنی زندگی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرح عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی اور شاہی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھا اپ نے بادشاہ بننے کے بعد ملک کا تمام انتظام اپنے وزیر غیاث الدین بلبن کے سپرد کر دیا اور اس کو ہدایت کی کہ وہ کوئی ایسا غیر شرعی کام نہ کریں جس کے باعث خدا تعالی کے سامنے مجھے ذلیل و رسوا ہونا پڑےآپ عمدہ کاتب تھے اور قران مجید کی کتابت سے روزی کماتے تھے اپ نے اپنے محل سے نوکروں اور لونڈیوں کو نکال دیا تھا اپ کی بیوی گھر کا کام کاج اور کھانا پکانا خود کرتی تھی ایک بار اپ کی بیوی نے درخواست کی کہ کام کی زیادتی کے باعث کوئی نوکر رکھ لیں سلطان ناصر الدین کی انکھوں میں انسو اگئے اور فرمایا کہ قرآن مجید کی کتابت سے اتنا کہاں ملتا ہے کہ میں میں کوئی نوکر رکھ سکوں اس کے علاوہ اپ ٹوپیاں بنانے کا کام بھی کرتے تھے سلطان ناصر الدین محمود سرکاری خزانے کو ایک امانت سمجھتے تھے اور ایک کوڑی بھی اپنے اوپر خرچ کرنا حرام سمجھتے تھے متقی فیاض اور دین دار ہونے کے علاوہ سلطان ناصر الدین محمود علم کا سرپرست بھی تھا اور تاریخ کی مشہور کتاب طبقات ناصری اپ ہی نے تصنیف کروائی تھی
ناصر الدین کے اندر ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ کسی کی دل شکنی نہیں کرتے تھے ان کے نرم دلی کے بہت سے واقعات مشہور ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے ان کی کتابت کیے ہوئے قران مجید کے نسخے میں کوئی غلطی بتائی ناصر الدین نے فوری اس غلطی کو درست کر لیا لیکن اس شخص کے جانے کے بعد اس جگہ کو چھیل کر پہلے والے الفاظ لکھ لیے بعض امراء نے
اپ سے وجہ دریافت کی تو اپ نے فرمایا دراصل یہ شخص غلط کہہ رہا تھا لیکن میں اس شخص کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا تھا جو اتنی مہربانی کرے کہ مجھے میرے غلطیوں سے اگاہ کرے
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے اپ کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے ناصر الدین محمود کو درویش بادشاہ کہا جاتا ہے اپ کے دور میں مغلوں نے کئ دفعہ ہندوستان پر حملہ کیا مگر شکست کھائی اس کے علاوہ ہندو اور راجپوت راجاوں نے بھی بغاوت کی مگر ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ناصر الدین محمود نے 11 جماعت الاول سن 1266 کو وفات پائی انہوں نے 20 سال حکومت کی
0 Comments