پاکستان کا خوبصورت تفریحی مقام ایوبیہ

 

پاکستان کے پہاڑی علاقے اپنے اندر  بے پناہ قدرتی حسن کو سموئے ہوئے ہیں اونچے اونچے پہاڑ بلند و بالا درخت ہر طرف پھیلی ہوئی ہریالی بہتے ہوئے جھرنے صاف و شفاف چشموں کا پانی یہ سب قدرتی حسن انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں پاکستانیوں کی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد ان خوبصورت علاقوں کا رخ کرتی ہے اور قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتی ہے
ایوبیہ کا شمار بھی انہی حسین علاقوں میں ہوتا ہے اسلام اباد سے ایوبیہ کا فاصلہ 72 کلومیٹر راولپنڈی سے 62 اور مری سے 26 کلومیٹر ہے ایوبیہ کا پرانا نام گھوڑا ڈھاکہ  تھا بعد میں اس کا نام پاکستان کے دوسرے صدر جنرل ایوب خان کے نام پر ایوبیہ رکھا گیا مری سے ایوبیہ کا سفر بہت خوبصورت ہے صاف ستھری چوڑی سڑک اور اس کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے ان درختوں نے سڑک کے دونوں طرف سایہ کیا ہوا ہے اور یہ منظر اتنا خوبصورت ہے کہ دل کرتا ہے کہ بندہ اس راستے پر پیدل چلے اور حسین نظاروں سے لفظ اندوز  ہوتے ہیں راستے میں مختلف دکانیں بھی آتی ہیں جہاں پر کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ مختلف اشیاء جیسےمقامی کڑھائی والے کپڑے جوتے اور مختلف چھوٹی بڑی ڈیکوریشن پیس کی دکانیں بھی ہیں
ایوبیہ کا خوبصورت ٹریک یہ گھنے جنگلوں کے درمیان چار کلومیٹر لمبا ٹریک ہے راستہ صاف اور سیدھا ہے کیونکہ یہ ٹریک جنگل کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے یہ درخت راستے کو خوبصورت بناتے ہیں اس راستے کو طے کرنے کے لیے تقریبا ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور اس کا اختتام ڈونگا گلی پر ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک طویل ٹریک ہے اس لیے جو لوگ اس ٹریک پر سفر کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی ساتھ پانی اور ہلکی پھلکی کھانے کی چیزیں ساتھ رکھیں راستے میں بڑے بڑے پتھر بھی اتے ہیں جس پر بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے ارام کر کے دوبارہ سے اپنا سفر شروع کر سکتے ہیں
ایوبیہ نیشنل پارک یہ پارک 1685 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس پارک میں مختلف قسم کے جانور پرندے اور پودے پائے جاتے ہیں جو اس پارک کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں پارک میں 23 ممالیہ جانور پائے جاتے ہیں جس میں کالا ریچھ ہندوستانی چیتا ترکستانی چوہا گلہری سنہری عقاب گدھ لومڑی شامل ہیں اس کے علاوہ 203 اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں اور مختلف اقسام کے 104 قسم کے پودے بھی پائے جاتے ہیں کچھ پودے ایسی بھی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ مختلف بیماریوں میں کام اتے ہیں جیسے شوگر جلدی بیماری جپل السر اور سانپ کے کاٹنے کے علاج میں استعمال ہونے والے پودے  شامل ہیں مئی جون میں موسم گرم ہوتا ہے اس لیے پارک گرم رہتا ہے مگر اگست کے اخر میں موسم بدلنا شروع ہو جاتا ہے یعنی کہ موسم سرد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سردیوں میں پورا پارک برف سے ڈھک جاتا ہے
ایوبیہ  موٹو ٹنل یہ 135 سال پرانی خفیہ سرنگ ھے اس سرنگ کو 2020 میں دوبارہ کھولا گیا تھا کیونکہ طویل عرصے سے مٹی اور پتھروں کی وجہ سے یہ سرنگ بند ہو گئی تھی یہ سرنگ 250 فٹ لمبی ہے اور چار فٹ چوڑی ہے اور چھ فٹ اونچی ہے یہ سرنگ 1891 میں بنائی گئی اس سرنگ کے درمیان پانی کی موٹی پائپ ہے اس پائپ کے ذریعے نتھیا گلی اور ڈونگا گلی سے مری کو پانی دیا جاتا تھا اگرچہ یہ ایک قدیم سرنگ ہے اس کی ٹیکنیک اور خوبصورتی کو دیکھ کر اس کا شمار دنیا کے عجائبات میں کیا جاتا ہے
ایوبیہ  کی چیئر لفٹ بھی بہت  مشہور ھے اس پر بیٹھ کر ہم اس خوبصورت وادی کا نظارہ کر سکتے ہیں یہ لفٹ سوئیٹزرلینڈ  سے لائی گئی تھی اور یہاں کی امدنی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے یہاں پر انے والے اکثر لوگ اس لفٹ کی سیر کرتے ہیں اور حسین نظروں  سے لطف اندوز ھوتے ہیں
ایوبیہ سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر خانس پور کے قریب ایک خوبصورت واٹر فال ہے جو کہ حسین نظاروں میں گھری ہوئی ہے اوپر سے گرتا ہوا صاف شفاف پانی یہاں کے منظر کو مزید خوبصورت بناتا ہے اونچے اونچے پہاڑ گھنے جنگلات بل کھاتے ہوئے راستے ہر طرف پھیلی ہوئی ہریالی اس وادی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں اور اگر اسمان پر بادل ہوں یا بارش ہو رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ درخت بارش کے پانی سے نکھر کر مزید خوبصورت ہو گئے ہیں اور جب بادل اٹکھیلیاں کرتے ہوئے نیچے کی طرف اتے ہیں تو یہ منظر وادی کے حسن میں مزید اضافہ کرتا ہے    ایوبیہ کا علاقہ کیونکہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اس لیے یہاں کے مقامی ابادی کا کہنا ہے کہ بعض جنگلات اتنے گھنے ہیں کہ وہاں پر خطرناک قسم کے جانور بھی پائے جاتے ہیں جس میں شیر بھی شامل ہے یہاں پر کچھ مکاں لکڑی کے بھی بنے ہوئے ہیں سردیوں میں برف باری کی وجہ سے  راستے بند ہو جاتے ہیں اس لیے مقامی لوگ نیچے کی طرف ا جاتے ہیں ایوبیہ کی حسین وادی میں گھوم کر اندازہ ہوتا ہے کہ وادی کتنی خوبصورت ہے اور اگر ایک دفعہ یہاں پر ائیں تو دل کرتا ہے کہ دوبارہ بھی اس حسیں وادی کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوں

Post a Comment

0 Comments